پالنا[2]
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - گہوارہ، جھولنا، پنگھوڑا، ہنڈولا جس میں بیٹھتے ہیں۔ یہ ہے اِک 'پالنا' ڈوری ہلاتی ہیں رگیں جس کی یہ اک "جھولا' ہے جس میں زندگی کو نیند آتی ہے ( ١٩٢٠ء، روحِ ادب، ٧٢ )
اشتقاق
سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت کے لفظ 'پالینک' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٨٠ء میں "کلیاتِ سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گہوارہ، جھولنا، پنگھوڑا، ہنڈولا جس میں بیٹھتے ہیں۔ یہ ہے اِک 'پالنا' ڈوری ہلاتی ہیں رگیں جس کی یہ اک "جھولا' ہے جس میں زندگی کو نیند آتی ہے ( ١٩٢٠ء، روحِ ادب، ٧٢ )
جنس: مذکر